منگلورو/بنگلورو/میسورو،رائچور،18/دسمبر (ایس او نیوز/یو این آئی) کرناٹک کے شیموگہ، بلاری، میسورو، بنگلورو، اور دیگر علاقو میں شہری ترمیم قانون کے خلاف احتجاج مظاہرے کئے اور ریالیاں نکالتے ہوئے مرکزی بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ احتجاج کے بعد پولیس نے دفعہ 144کے تحت امتناعی احکام نافذ کردیئے۔
شیموگہ میں سابق رکن اسمبلی کے پرسنا کمار نے گاندھی پار ک کے قریب احتجاج جلوس کی قیادت کی۔ احتجاجیوں کے پُرتشدد ہونے کے اندیشہ کے تحت پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ بلاری میں بھی سی اے اے کے خلاف ایک بڑی ریالی نکالی گئی۔ بنگلورو میں آئی آئی ایس سی طلباء نے ایک روزہ خاموش احتجاج جمشید جی ٹا ٹا کے مجسمہ کے سامنے کیا جبکہ اس کے ذریعہ نئی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ہندوستان کے دیگر علاقوں کے طلبہ سے اظہار یگانگت کیا گیا۔ سی اے اے کے مخالف طلبہ جن کے ہاتھ میں پلے کارڈ تھے جس پر دستور کی تمہید تحریر تھی جس میں ہندوستان شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کئے گئے ہیں۔
بنگلورو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے طلبہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سی اے اے کے خلاف سارے ہندوستان میں مظاہروں کی تائید کا اظہار کرتے ہوئے اُن پر زور دیا کہ غیر منصفانہ قانون کے خلاف پُر امن احتجاج کرنے والے شہریوں کے جمہوری حقوق کو پامال نہ کریں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے منطورہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سارے ملک میں مسلمانوں کی جانب سے ان دونوں قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
میسورو کے مسلم اکثریتی علاقوں لشکر محلہ، منڈی محلہ، بنی منڈپ اور ادیگری اور راجیو نگر میں مسلمانوں نے اپنے کاروبار بند رکھ کر ان دونوں قوانین کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب دو پہر دو بجے شہر کے ٹاؤن ہال میں کثیر تعداد میں جمع ہو کر مرکزی حکومت کی جانب سے منظور شہر یت ترمیم قانون 2019 اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان دونوں قوانین کو فوری واپس لینے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔
پولیس کمشنر کے ٹی بال کرشنا نے ایک دن قبل ہی میسورو کے ٹاؤن ہال کے اطراف کرناٹک پولیس ایکٹ کے سکشن 35کے تحت پیر کی صبح 6بجے سے رات 12بجے تک امتناعی احکام نافذ کردیئے تھے لیکن ٹاؤن ہال کے احاطہ میں یہ امتناعی احکام نافذ نہیں کئے گئے۔
پولیس کمشنر کی جانب سے جاری کردہ امتناعی احکام کے تحت احتجاجی مظاہرے، احتجاجی جلوس، بائک ریالی نکالنا اور اجلاس منعقد کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا بھی انتباہ دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود دوپہر 2بجے مسلمانوں نے کثیر تعداد میں ٹاؤن ہال کے احاطہ میں جمع ہو کر احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ میسورو کے دیوراجہ پولیس تھانے کے پولیس انسپکٹر پرسنا کمار نے سیکوریٹی انتظامات کی نگرانی کی۔ سٹی آر مڈ پولیس کو ٹاؤن ہال کے اطراف تعینات کیا گیا تھا اور ٹاؤن ہال کے اطراف تعینات کیاگیا تھا اور ٹاؤن ہال کے اطراف پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔
طلبا تنظیم کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایف آئی) کے کارکنوں نے منگلورو شہر میں جوتی سرکل اور بالمٹا کے درمیان اہم شاہراہ پر دھرنا دیتے ہوئے سخت احتجاج کی اور رات کو دہلی کی جامعہ یونیورسٹی کے طلباء پر پولیس کی بربریت پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے واقعہ کی سخت مذمت کی۔ احتجاجیوں کی جانب سے روڈ بلاک کرنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقو ع پر پہنچ گئی اور احتجا جیوں اور لاٹھیاں برساتے ہوئے انہیں سڑک سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن احتجاجی لاٹھیاں کھاتے ہوئے بھی سڑک پر ہی بیٹھے رہے۔ احتجاجی طلباء کی تعداد تھی لیکن لاٹھیاں برسانے کے باوجود سڑک سے نہ اٹھنے سے پریشان پولیس نے بالآخر انہیں زبردستی اٹھا کر پولیس وین میں بھرنے لگے۔
اس موقع پر احتجاجیوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور دہلی پولیس کے جامعہ ملیہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر داخل اور نہتے طلبا پر حملہ کرنے کی سخت مذمت کی۔ احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں مرکزی حکومت کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ کافی کوششوں کے بعد پولیس نے قریب 50 طلباء کو پولیس نے گرفتار کیا اور سڑک کو سواریوں کے لئے خالی کردیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی و علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ پر مقامی پولیس کے تشدد اور حملے کے خلاف رائچور میں طلبہ تنظیم آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آر گنائز یشن نے ایک احتجاجی ریالی کرناٹک سنگھ سے نکالی جو مختلف شاہراؤں سے گذرتے ہوئے شہر کے کئی دوردارز سے انسانی زنجیر کی شکل اختیار کر لی۔ یہاں پر احتجاجی طلبہ نے نئی دہلی، علی گڑھ میں پولیس کے طلبہ پر حملے کی سخت لفظوں میں مذمت کی اور اس کو کھلے عام داد گری بتایا اور نہتے معصوم طلبہ پر حملہ کرنے والے پولیس نوجوانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا یا۔ اس موقع پر اے آئی ڈی ایس او کے ضلع صدر مہیش چکل پری، چنا بسوا جانیکل، پیر صاحب، ادھبال، ویریش و دیگر موجود تھے۔